فتویٰ نمبر:976
سوال: محترم جناب مفتیان کرام!
السلام علیکم
خون لگانے پر اور آکسیجن لینے پر روزے کا کیا حکم ہوگا ؟
والسلام
سائل کا نام: سمیہ محمد
الجواب حامدۃو مصلية
١ ـ روزے میں خون چڑھانا درست ہے اور اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ روزہ معدہ یا دماغ میں کسی چیز کے داخل کرنے سے یا بدن کے کسی راستے سے پیٹ میں کوئی چیز پہنچانے سے ٹوٹتا ہے؛ جیسے سبیلین سے یا ناک، کان سے دوا ڈالی جائے جبکہ خون چڑھانے میں خون معدہ یا دماغ تک نہیں پہنچتا ہے بلکہ رگوں کے زریعے جسم میں پہنچتا ہے ۔
٢ ـ جس طرح عام حالات میں سانس لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اسی طرح آکسیجن ماسک سے سانس لینے سے بھی روزہ فاسد یا مکروہ نہیں ہوتا۔البتہ اگر اس میں ادویات ملی ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گاـ
واما ما وصل إلَى الْجَوْفِ أَوْ إلَى الدِّمَاغِ عَنْ غَيْرِ الْمَخَارِقِ الْأَصْلِيَّةِ بِأَنْ دَاوَى الْجَائِفَةَ، وَالْآمَةَ، فَإِنْ دَاوَاهَا بِدَوَاءٍ يَابِسٍ لَا يُفْسِدُ لِأَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إلَى الْجَوْفِ وَلَا إلَى الدِّمَاغِ وَلَوْ عَلِمَ أَنَّهُ وَصَلَ يُفْسِدُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ، وَإِنْ دَاوَاهَا بِدَوَاءٍ رَطْبٍ يُفْسِدُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَعِنْدَهُمَا لَا يُفْسِدُ هُمَا اعْتَبَرَا الْمَخَارِقَ الْأَصْلِيَّةَ لِأَنَّ الْوُصُولَ إلَى الْجَوْفِ مِنْ الْمَخَارِقِ الْأَصْلِيَّةِ مُتَيَقَّنٌ بِهِ وَمِنْ غَيْرِهَا مَشْكُوكٌ فِيهِ، فَلَا نَحْكُمُ بِالْفَسَادِ مَعَ الشَّكِّ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ إنَّ الدَّوَاءَ إذَا كَانَ رَطْبًا فَالظَّاهِرُ هُوَ الْوُصُولُ لِوُجُودِ الْمَنْفَذِ إلَى الْجَوْفِ فَيُبْنَى الْحُكْمُ عَلَى الظَّاهِرِ.”
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:2/93)
و اللہ سبحانہ اعلم
بقلم : بنت عبدالباطن عفی عنھا
قمری تاریخ: ٢٢رمضان ١٤٣٩ ھ
عیسوی تاریخ:٧جون ٢٠١٨
تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم
ہمارا فیس بک پیج دیکھیے.
فیس بک:
https://m.facebook.com/suffah1/
ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں.
ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک
ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:
ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں: